ہم نے 40 سال تک افغان بھائیوں کا خیال رکھا مگر پھر بھارتی ایما پر پاکستان پر حملہ کردیا، یہ عمل قابل قبول نہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے 40 سال تک افغان بھائیوں کا خیال رکھا مگر پھر بھارتی ایما پر پاکستان پر حملہ کردیا جو قابل قبول نہیں۔
وفاقی کابینہ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کا یہ عمل قابل قبول نہیں ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اس اجلاس می دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں افغانستان سے جاری فتنہ ہندوستان کی شرانگیزیوں اور خوارج کی کارروائیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور قومی اور عالمی امور پر تفصیل سے غورکیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے دوران بیرونی دوروں، ملاقاتوں اور علاقائی صورتحال پر کابینہ کو اعتماد میں لیا۔
اجلاس کے شرکا نے پاک فوج کیساتھ مکمل یکجہتی کااظہارکیا اوردہشتگردی کوجڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کابینہ اجلاس میں دہشتگردی کے جنگ میں شہید ہونے والےافواج پاکستان کےجوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اجلاس میں بین الحکومتی تجارتی معاملات سےمتعلق کابینہ کمیٹی کےفیصلوں کی بھی توثیق اوورسیز امپلائمنٹ اورٹیکنیکل ووکیشنل ایجوکیشن وٹریننگ کے ایجنڈے پربھی غورکیاگیا۔
قانون سازی سے متعلق کیسزپرکابینہ کمیٹی کی 3 مختلف میٹنگز کے فیصلوں کی توثیق اور ریگولیٹری ریفارمز سے متعلق سفارشات کا بھی جائزہ لیاگیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک افغان کشیدگی فتنہ ہندوستان وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک افغان کشیدگی فتنہ ہندوستان وزیراعظم شہباز شریف وفاقی کابینہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :