اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے سعودی عرب کی الفیصل یونیورسٹی کے 14 محققین کو دنیا کے سرفہرست 2 فیصد سائنسدانوں میں شامل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں لیبر اصلاحات: غیرملکی محنت کشوں کے لیے نئے دور کا آغاز

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ سالانہ فہرست ’اسکوپس‘ ریسرچ سائٹیشن ڈیٹا بیس پر مبنی ہے جو دنیا بھر کے ان محققین کو تسلیم کرتی ہے جن کا سائنسی کام نمایاں اثر اور اعلیٰ معیار کا حامل ہوتا ہے۔

یہ فہرست تعلیمی برتری اور تحقیقی اثر پذیری کی ایک معتبر عالمی پیمائش سمجھی جاتی ہے۔

مذکورہ فہرست 2 مرکزی زمروں میں تقسیم کی گئی ہے جن میں طویل المدتی اثرات (محقق کے کیریئر کے دوران سائنسی خدمات کو مد نظر رکھنے والی) اور سالانہ اثرات (حالیہ اور نمایاں تحقیق کو اجاگر کرنے والی) شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کلچر فیسٹیول میں شرکت کے لیے پہلی بار سعودی فنکاروں کی پاکستان آمد

الفیصل یونیورسٹی کے کئی اساتذہ دونوں زمروں میں شامل کیے گئے جنہوں نے مختلف سائنسی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

یہ اعزاز الفیصل یونیورسٹی کے تحقیقی شعبے میں بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے اور مملکت کی جانب سے ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب کو تعلیم و اختراع کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا مظہر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، پی آئی اے اور ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق بریفنگ

رپورٹ کے مابق اس سنگ میل عالمی علمی برادری کے سعودی سائنسی ٹیلنٹ پر اعتماد اور ان کی عالمی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹینفورڈ یونیورسٹی الفیصل یونیورسٹی سعودی یونیورسٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹینفورڈ یونیورسٹی سعودی یونیورسٹی یونیورسٹی کے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم