data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی میں دنیا کی سب سے بڑی چاندی کی اینٹ کو دنیا کے سامنے پیش کردیا گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق دبئی ملٹی کموڈٹیز سینٹر کی جانب سے اس منفرد اینٹ کی نقاب کشائی کی گئی۔ یہ دیوہیکل چاندی کی اینٹ نہ صرف اپنے حجم اور وزن کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ متحدہ عرب امارات کی تاریخ سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔

1,971 کلوگرام وزنی اس اینٹ کا وزن اس سال کی نمائندگی کرتا ہے جس میں یو اے ای کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اسی علامتی ربط نے اسے عالمی شہرت دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس شاہکار نے باضابطہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنا لی ہے، جس کے بعد یہ اینٹ پورے خطے کے لیے ایک نئی شناخت کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔

دبئی پریشیس میٹلز کانفرنس کے دوران 24 نومبر کو اس تاریخی ایونٹ کا انعقاد ہوا، جس میں دنیا بھر سے قیمتی دھاتوں کے ماہرین، مارکیٹ تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی سرگرمیوں کے دوران جب اس چاندی کی اینٹ کی نقاب کشائی کی گئی تو ہال میں موجود شرکا حیرت، تجسس اور تحسین کے ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

قیمتی دھاتوں کی عالمی صنعت میں اس تقریب کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل رہی، کیونکہ اس سے نہ صرف خطے کے بڑھتے ہوئے تجارتی حجم کا اظہار ہوتا ہے بلکہ دبئی کی بطور عالمی مارکیٹ لیڈر پوزیشن بھی مزید نمایاں ہوتی ہے۔

ڈی ایم سی سی کے ایگزیکٹو چیئرمین اور سی ای او احمد بن سلیم نے اس موقع پر کہا کہ اس سال کانفرنس کا 13واں ایڈیشن بہت سی نئی کامیابیوں اور تاریخی اقدامات کا حامل رہا۔ چاندی کی اس اینٹ نے نہ صرف تکنیکی مہارت کی بہترین مثال پیش کی بلکہ کاریگری، اختراع اور دبئی کی اقتصادی قوت کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔

احمد بن سلیم کا کہنا تھا کہ 1.

3 میٹر لمبی یہ اینٹ اپنی ساخت، مضبوطی اور نفاست کے اعتبار سے بھی بے مثال ہے، جو مستقبل کی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں دبئی کی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اینگوٹ کے وزن کو متحدہ عرب امارات کی تاسیس کے سال سے جوڑنا محض ایک علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ملک کی ترقی، جدت اور عالمی برادری میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منفرد منصوبے نے دبئی کو ایک بار پھر دنیا بھر میں سرفہرست شہروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، جو جدید اقتصادی ماڈلز اور قیمتی دھاتوں کی عالمی تجارت کے مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔

چاندی کی اس غیر معمولی اینٹ نے نہ صرف قیمتی دھاتوں کی صنعت میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات مستقبل میں بھی بڑے اور منفرد منصوبوں کے ذریعے عالمی تجارتی نقشے پر اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قیمتی دھاتوں کی چاندی کی اینٹ

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس