ویب ڈیسک :  پاکستان میں کراٹے کے بانی و مارشل آرٹس کے گرینڈ ماسٹرمحمد اشرف طائی  ذہنی اور جسمانی مسائل کے ساتھ دل اور گردوں کے عارضے سمیت دیگر بیماریوں کا شکار  ہیں ۔انہوں نے ایک بار پھر وفاقی اور سندھ حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان کے علاج میں مدد فراہم کی جائے۔

کراچی پریس کلب میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ نمائش چورنگی پر قائم تاریخی گوونز کرکٹ کلب اور کورنگی میں طائی کراٹے اکیڈمی کرائے کی عمارتوں میں ہیں جو ان کے لیے مالی بوجھ کا سبب بن چکی ہیں۔ ان کی علالت کے باعث اکیڈمی میں سیکھنے والوں کی تعداد اب اتنی نہیں ہے کہ ان اکیڈمیز کا کرایہ برداشت کیا جا سکے۔ یہ بوجھ ان کے لیے مزید ذہنی پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان

اشرف طائی نے حکومت سے اپیل کی کہ اکیڈمیز ان کے نام پر الاٹ کردی جائیں تاکہ یہ تاریخی ادارے بچائے جا سکیں اور کراٹے کے کھیل کو فروغ دیا جا سکے۔

اشرف طائی کی اہلیہ سیدہ ثمینہ شاہ نے کہا کہ 12 سال قبل بھی بیماری میں سابق گورنر سندھ نے مدد فراہم کی تھی۔ اشرف طائی کے مکمل علاج کو یقینی بنایا جائے، حکومتی سطح پر انہیں اعزازات سے نوازا جائے۔ عروج کے وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا لیکن زوال کے وقت کوئی ساتھ نہیں ہے ۔ اشرف طائی کی ملکی خدمات پر شریف خاندان بھی ہمارا ساتھ دے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین

نصف صدی سے زائد مدت کے دوران 26 لاکھ افراد کو تربیت دینے والے ماسٹر اشرف طائی نے وزیراعظم و صدر پاکستان، سندھ کے وزیراعلیٰ، وزیر صحت، وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر سندھ کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری اور میئر کراچی سے بھی خصوصی تعاون و مدد کی گزارش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم