یورپی سیاح جدہ میں اسلامی آرٹ بینالے 2025 سے متاثر
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
سعودی میڈیا کے مطابق یورپی سیاحوں نے جدہ میں منعقدہ اسلامی آرٹ بینالے 2025 کی خوبصورتی اور تاریخی ورثے کے عکاس فن پاروں کی بھرپور تعریف کی ہے۔
جرمن سیاح یواخیم نے سعودی عرب کے مختلف خطوں کے ثقافتی تنوع کا ذکر کرتے ہوئے الہفوف شہر کے زرعی وتاریخی مقامات اور ربع الخالی کے وسیع صحرائی حسن کو اپنی یادگار سیاحتی تجربات میں شامل کیا۔
یہ بھی پڑھیے:قائد اعظم اور چیئرمین ماؤ کے مجسموں کی تقریب رونمائی، وزیراعظم کا چینی آرٹسٹ کو خراج تحسین
یواخیم نے سعودی مہمان نوازی، قدرتی مناظر اور روایتی کھانوں، خصوصاً کھجور کی لذت کو سراہا۔
جامعہ جدہ کے امریکی پروفیسر ڈوگلس نے بینالے کی متنوع آرٹ نمائشوں کو ’شاندار‘ اور اسے اسلامی فنون کے تسلسل کا ایک بہترین مظہر قرار دیا۔
واضح رہے کہ اسلامک آرٹس بینالے کا دوسرا ایڈیشن 25 جنوری سے جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل پر شروع ہوگیا ہے۔ اس نمائش میں اسلامی اور عصری آرٹ اور فن پارے شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
art Islamic Arts Biennale Jeddah.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔