کل یوم سیاہ، کراچی الیکشن آفس سمیت ملک بھر میں احتجاج کرینگے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 8 فروری ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن، یوم سیاہ کے طور منائیں گے، ملک گیر احتجاج ہوگا، کراچی میں الیکشن کمشن کے سامنے بڑا مظاہرہ کریں گے، 8 فروری کے بعد آئی پی پیز مافیا کو لگام دینے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے بڑا احتجاج ہوگا۔ وزیراعظم نجانے مہنگائی میں کمی کے دعوے کس کو بے وقوف بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ پنجاب میں کسان کارڈ دراصل قرضہ کارڈ ہے۔ وزیراعظم، ان کے بھائی، بھتیجی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی فارم 47 کی پیداوار ہیں، دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمشن بن جائے تو 80 فیصد پارلیمنٹ فارغ ہوجائے گی، حیرانی ہے پی ٹی آئی فارم 45کے موقف سے دستبردار ہوگئی، ری الیکشن کا مطالبہ حکومت کو تسلیم کرنے اور دھاندلی کو تقویت دینے کے مترادف ہے، اسٹیبلشمنٹ نااہل لوگوں کو قوم پر مسلط کرنے کے رویہ پر نظرثانی کرے، ادارے آئین کے مطابق کام کریں، جماعت اسلامی پارٹی پالیٹکس سے بالاتر ہو کر عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی بات کرتی ہے، حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے، اصول اصول ہے، جو کامیاب ہوا اسے حکومت دی جائے۔ امریکہ غزہ میں تباہی کا جنگی تاوان دے، پاکستان کشمیریوں اور فلسطینیوں کاکیس پوری دنیا میں لڑے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت نے کہا کہ کل ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا، جماعت اسلامی نے لاہور سمیت ملک بھر میں ریلیاں اور مارچز منعقد کیے۔ عوام نئے عزم سے متحد ہوکر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرے، حکومت کے پاس بہترین موقع ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور سفاکیت کو پوری دنیا میں ایکسپوز کرے، حکمران کشمیر پر سودے بازی سے متعلق رپوٹس پر وضاحت جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا غزہ خالی کرانے کا بیان احمقانہ ہے جسے پوری دنیا نے مسترد کردیا، ٹرمپ کے اقتدار میں آکر امن قائم کرنے کی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا لوگوں کو حقیقت کا علم ہوچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس