پیڑول پمپس بند کرنے کا عندیہ دیدیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز نے ڈی ریگولیشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
چیئرمین آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ڈی ریگولیٹ فارمولے کو مسترد کرتے ہیں، ڈی ریگولیٹ فارمولا عائد ہونے سے پیٹرولیم اسمگلنگ اور ملاوٹ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہ اکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے سے پیٹرول پمپ اپنی قیمت کا تعین خود کرے گا۔ سینڑل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، آج ملک بھر میں احتجاجی بینرز آویزاں ہو جائیں گے۔
عبدالسمیع خان نے کہا کہ وزارت پیٹرولیم کو ہنگامی خط میں ڈی ریگولیٹ فارمولے کی مخالفت اور مارجن بڑھانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پیڑولیم ڈیلرز کا فی لیٹر مارجن 4 فیصد اضافے سے 13 روپے کیا جائے۔ اوگرا نے ڈی ریگولیٹ فارمولے پر پیٹرولیم ڈیلرز کی حمایت کی مگر منسٹری کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں۔
چیئرمین پی پی ڈی اے کا کہنا تھا کہ ایران سے پیٹرولیم اسمگلنگ پھر بڑھنا شروع ہوگئی، اسمگلنگ ختم کرنے کے لیے وفاق ایران سے لیگل ایگریمنٹ کرے۔ مصدق ملک نے پیٹرولیم ڈیلرز کو نظرانداز کیا، دعویٰ کرتا ہوں ڈی ریگولیشن سے عوام کو سستا پیڑول نہیں ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ