کرنٹ لگنے سے کم عمر لڑکا جاں بحق، کے الیکٹرک کا اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
— فائل فوٹو
کے-الیکٹرک کے ترجمان نے کراچی کے علاقے بلال کالونی، کورنگی میں پیش آنے والا واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کے زیرِ زمین کیبل کو غیر قانونی کھدائی کے ذریعے چھیڑا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے-الیکٹرک نے علاقے میں زیرِ زمین کیبل نصب کرنے کا کام مکمل کیا تھا، تاہم بعد میں غیر قانونی کھدائی کے باعث زیرِ زمین کیبل اوپری سطح پر نمایاں ہوا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر کے اولڈ سٹی ایریا میں نکاسی آب کے نظام میں بہتری آئی ہے۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین کیبل نصب کرنے کے بعد تمام حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔
ترجمان کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ اس افسوس ناک واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ کورنگی بلال کالونی میں کچرا چننے کے دوران بجلی کے تار سے کرنٹ لگ کر 12 سالہ لڑکا زاہد جاں بحق ہو گیا تھا۔
واقعے کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اسپتال منتقل کیا جہاں پر ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثاء کےحوالے کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک زمین کیبل
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔