اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحق نے مشعال یوسفزئی کی جیل سپرنٹنڈنٹ کیخلاف درخواست ڈی لسٹ کرنے اور کازلسٹ منسوخی پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کیخلاف توہین عدالت کیس میں ہائیکورٹ رولز طلب کرتے ہوئے استفسار کیاکہ کیا چیف جسٹس کسی بینچ میں زیرسماعت کیس کو واپس لے سکتے ہیں؟

آفس اعتراضات دور کرنے کی وجہ بتائے بغیر لارجر بینچ کی تشکیل اور وہاں عدالتی کارروائی قانونی ہے یا نہیں؟ اس ایشو پر ایک حتمی فیصلہ لکھنا ہے، میں لکھوں گا کہ اس طرح کیس ٹرانسفر کرنے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، اگر یہ کام ہائی کورٹ جج نے نہ کیا ہوتا تو یہ کریمنل توہین عدالت ہوتی۔

کسی کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری نہیں کروں گا۔ یہ کیس ایک سیاسی جماعت کے لیڈر سے متعلق نہیں بلکہ اصول طے کرنے کا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا عدالت نے گزشتہ روز اپنے دل کی باتیں کیں۔ آج مجھے بھی اجازت دی جائے۔ تنازع یہ تھا کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہیں یا نہیں۔

بانی پی ٹی آئی کے فوکل پرسن نے بیان دیا کہ مشال یوسفزئی اب انکی وکیل نہیں۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا آج ہمارے سامنے وہ معاملہ نہیں۔ عدالت دیکھ رہی ہے کہ کسی بینچ میں زیرسماعت کیس اس طرح ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا اِس تنازع کی وجہ سے تمام کیسز یکجا ہوکر لارجر بنچ کے سامنے لگے۔ عدالت نے کہا میں نے کمیشن اسی لیے بھیجا تھا، آپ ملاقات کروا دیتے تو تیس سیکنڈ میں یہ بات واضح ہو جاتی، آپ عدالت کو دھکیل کر یہاں تک لے گئے۔

ایک وکیل روسٹرم پر کھڑا ہو کر کہے کہ میں وکیل ہوں تو عدالت رد نہیں کر سکتی۔ سینکڑوں درخواستیں ہمارے سامنے دائر ہوتی ہیں کیا کلائنٹ کو بلا کر پوچھتے ہیں کہ وکیل ہے یا نہیں؟ کیسز یکجا کرنے اور لارجر بنچ بنانے کا معاملہ آئے تو اس جج کے پاس آتا ہے جو کیس سن رہا ہو۔

وہ جج چیف جسٹس کو لکھ کر بھیجتا ہے پھر چیف جسٹس آرڈر کرتا ہے۔ سیکشن 24 کے تحت درخواست دائر کی گئی اور لارجر بنچ بنا دیا گیا۔ اس شق کے تحت کیس پارٹیز کو سننا ہوتا ہے، کیا فریقین کو سُنا گیا؟

میں اپنے یا اپنے کولیگز کے لیے کوئی ناخوشگوار بات نہیں چھوڑنا چاہتا،میرے لیے سب سے اہم اسلام آباد ہائیکورٹ کی ساکھ اور توقیر ہے۔ سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور