پوپ کی رحلت: ٹرمپ نے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پوپ ایک اچھے انسان تھے، انہوں نے سخت محنت کی اور وہ دنیا سے بیحد پیار کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اس مرتبہ پوپ ایشیا سے ہوسکتے ہیں، مضبوط امیدوار کون؟
یاد رہے کہ رومن کیتھولک چرچ کے 266 ویں پوپ پوپ فرانسس پیر کی صبح روم میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ پوپ کو دونوں پھیپھڑوں میں نمونیا کی پیچیدگیوں کا سامنا بھی تھا۔
دریں اثنا کارڈینل کیون فیرل، اپوسٹولک چیمبر کے کیمرلینگو، ٹرمپ نے کہا کہ فرانسس خدا کے ہاں لوٹ گئے اور ان کی پوری زندگی رب اور اس کے چرچ کی خدمت کے لیے وقف تھی۔
مزید پڑھیے: نئے پوپ کا انتخاب کیسےکیا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پوپ نے ہمیں خوشخبری کی اقدار کو وفاداری، ہمت اور عالمگیر محبت کے ساتھ جینا سکھایا۔
مزید پڑھیں: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کون تھے؟
نائب صدر جے ڈی وینس نے پوپ فرانسس سے ان کے انتقال سے ایک روز قبل اٹلی میں ملاقات کی تھی۔ آن لائن شیئر کیے گئے ایک بیان میں وینس نے کہا کہ پوپ ان کے دورے کے دوران ظاہر طور پر بہت بیمار اور نحیف تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریی پرچم سرنگوں پوپ فرانسس پوپ کا انتقال ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پوپ فرانسس پوپ کا انتقال ڈونلڈ ٹرمپ پوپ فرانسس
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔