زیلنسکی نے ٹرمپ پر سنگین الزام عائد کردیا، امریکا سے تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک انٹرویو میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے الاسکا سمٹ کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو وہ سب کچھ دیا جو وہ چاہتے تھے۔ اس بیان کو ماہرین نے زیلنسکی کے لیے سیاسی طور پر خطرناک قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی سطح پر کمزور یا جھکنے کے طعنے کو برداشت نہیں کرتے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے کہ جو لوگ ٹرمپ کو کمزور کہتے ہیں وہ ان کے سخت ردعمل کا سامنا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین اس وقت سب سے زیادہ امریکی مدد پر انحصار کر رہا ہے اور اگر ٹرمپ کو ناراض کیا گیا تو یہ امداد خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ولادیمیر زیلنسکی سے تلخ کلامی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین کی امداد روکنے کا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور امریکا کو اس تنازع سے باہر نکالنے کے حامی ہیں۔ ان کے نزدیک روس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
دوسری جانب زیلنسکی مسلسل ہتھیاروں اور مزید پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس سے جنگ طویل ہو رہی ہے۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوکرین کے عوام جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 11 فیصد عوام جنگ کو غیرمشروط جاری رکھنے کے حق میں ہیں جبکہ اکثریت مذاکرات چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
ماہرین کے مطابق زیلنسکی کا یہ بیان وقتی طور پر یورپی دارالحکومتوں میں پذیرائی حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس سے امریکا کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو یوکرین کے لیے سب سے بڑا حمایتی ملک ہے۔ اگر زیلنسکی نے ٹرمپ کو مزید ناراض کیا تو یہ ان کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس یوکرین یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کے کے لیے
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔