اسرائیل بلاشبہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، برنی سینڈر
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق معروف امریکی سینیٹر نے بین الاقوامی قانون کے ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کیجانب سے سامنے آنیوالے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بلاشبہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ نسل کشی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق معروف امریکی سینیٹر برنی سینڈر نے بین الاقوامی قانون کے ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی جانب سے سامنے آنے والے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بلاشبہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 2 سال میں اسرائیل نے حماس کے خلاف صرف اپنا دفاع نہیں کیا، اس کے علاوہ اس نے فلسطینی عوام پر جنگ مسلط کر دی ہے۔
امریکی سینیٹر نے اسرائیل کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی مجموعی آبادی 2 ملین (20 لاکھ) ہے، جس میں اسرائیل اب تک 65 ہزار لوگوں کو شہید کرچکا ہے، جو اسرائیلی ڈیٹا کے مطابق 83 فیصد عام شہری ہیں۔ بتاتے چلیں کہ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سینیئر سینیٹر وہ پہلے امریکی سینیٹر ہیں، جنہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو واضح طور پر نسل کشی قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر کے مطابق
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔