افغانستان کا معاملہ پیچیدہ، پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے جس کے باعث پاکستان کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کے ہر طبقے کو متاثر کیا — طلبہ سے لے کر وکلا تک کوئی طبقہ محفوظ نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پراکسیز کے ذریعے جنگ کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے، اور نہ ہی بھارت کو ایسے اقدامات سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد خان ملک اسپیکر پنجاب اسمبلی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمد خان ملک اسپیکر پنجاب اسمبلی اسپیکر پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔