افغانستان کا معاملہ پیچیدہ، پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ افغانستان کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے جس کے باعث پاکستان کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کے ہر طبقے کو متاثر کیا — طلبہ سے لے کر وکلا تک کوئی طبقہ محفوظ نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پراکسیز کے ذریعے جنگ کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں ہوتے، اور نہ ہی بھارت کو ایسے اقدامات سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن ممکن بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمد خان ملک اسپیکر پنجاب اسمبلی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمد خان ملک اسپیکر پنجاب اسمبلی اسپیکر پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔