امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کا نئی اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے (Huawei) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی نئی سپر کمپیوٹنگ ڈیوائسز Atlas 950 اور Atlas 960 SuperPoDs متعارف کرائے گی، جن میں ہزاروں ہواوے چپس شامل ہوں گی تاکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے کمپیوٹنگ پاور میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
ہواوے کے نائب چیئرمین ایرک ژو نے کہا کہ یہ پروڈکٹس بالترتیب 2026 اور 2027 کی چوتھی سہ ماہی میں لانچ کی جائیں گی۔ ان ڈیوائسز کو ’صنعت میں نمایاں کارکردگی‘ کے حامل قرار دیا گیا ہے جن میں زیادہ نیورل پروسیسنگ یونٹس (NPUs)، میموری کی گنجائش اور تیز رفتار انٹرکنیکٹ بینڈوڈتھ شامل ہوگی۔
مزید پڑھیں: ہواوے 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ڈیجیٹل تربیت فراہم کرےگا، وزیراعظم کو بریفنگ
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے چینی کمپنیوں کو جدید اے آئی چپس کی برآمدات پر پابندیاں سخت کر دی ہیں اور اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے اپنی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی کمپنی اینویڈیا کے بعض پروسیسرز کے آرڈرز ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ بیجنگ امتیازی اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور عالمی سپلائی چین کے استحکام کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Huawei امریکی پابندیاں چائنا چین ہواوے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی پابندیاں چائنا چین ہواوے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔