بھارتی کمپنی کے مورنگا پاؤڈر سے تیار امریکی سپلیمنٹس مارکیٹ سے واپس
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات (FDA) نے مورنگا لیف پاؤڈر سے بنے غذائی سپلیمنٹس کو سالمونیلا (Salmonella) کے پھیلاؤ کے باعث مارکیٹ سے واپس بلانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں:شوگر کے مریضوں کے لیے مورنگا (سہانجنا) کے 6 حیرت انگیز فوائد
ایف ڈی اے کے مطابق ’میمبرز مارک سوپر گرینز‘ ڈائٹری سپلیمنٹ پاؤڈر کا استعمال فوری طور پر بند کر دیا جائے، کیونکہ اس میں شامل مورنگا لیف پاؤڈر کی ایک مخصوص کھیپ بھارت کے شہر جودھپور کی کمپنی ویلی فارم ڈائریکٹ سے درآمد کی گئی تھی، جس سے متعدد افراد بیمار ہوئے ہیں۔
Health officials said at least 11 people have been sickened with salmonella infections linked to powder supplements sold at Sam's Club stores nationwide and online.
— FOX 35 Orlando (@fox35orlando) November 1, 2025
یہ مصنوعات امریکا بھر میں سیمز کلب (Sam’s Club) اسٹورز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت کی جا رہی تھیں۔
مرکزی تحقیقاتی ادارے (CDC) کے مطابق اب تک 7 امریکی ریاستوں، ورجینیا، فلوریڈا، کنساس، مشی گن، نیویارک، نارتھ اور ساؤتھ کیرولائنا میں 11 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے تین افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سہانجنہ درخت کے طبی فوائد
متاثرین میں سے بیشتر نے مورنگا لیف پاؤڈر پر مشتمل سپلیمنٹس استعمال کیے تھے، جبکہ ایک مریض کے گھر سے حاصل کیے گئے نمونے میں وہی سالمونیلا بیکٹیریا پایا گیا جو وبا کا سبب بن رہا ہے۔
ایف ڈی اے نے کہا ہے کہ آلودگی کے مقام اور دیگر متاثرہ مصنوعات کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ مصنوعات کو استعمال نہ کریں، کیونکہ سالمونیلا سے متاثرہ خوراک 12 سے 72 گھنٹے کے اندر فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بھارتی کمپنی پابندی مورنگا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارتی کمپنی پابندی مورنگا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔