پاکستان نےجوابی حملوں میں بھارت کو اب تک کیا نقصان پہنچا دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے 6 مختلف مقامات پر 24 حملے کیے، پھر اگلے ہی دن پاکستان میں مختلف ڈرون بھیجے گئے، اور آج 10 مئی کی رات پاکستان کی 3 ایئر بیسز پر بھارت کی جانب سے حملے کیے گئے جس کے بعد پاکستان نے بھارتی جارحیت کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ شروع کردیا جس میں بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
آپریشن شروع ہونے سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کے آغاز کا مقصد بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا اور خطے میں پاکستان کی سالمیت کا دفاع کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے آغاز کے بعد بیاس میں واقع براہموس میزائل اسٹوریج سائٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ادھم پور ایئر بیس، پٹھان کوٹ کی ایئر فیلڈ کو بھی مکمل تباہ کردیا گیا، آدم پور ایئر فیلڈ جہاں سے امرتسر میں سکھوں پر، پاکستان اور افغاستان پر میزائل داغے گئے، کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے جواب میں جاری آپریشن کے تحت دشمن کو بھرپور اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر ’جی ٹاپ‘ کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے جبکہ اُڑی کے علاقے میں واقع اہم سپلائی ڈپو کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے الفتح میزائل بھی لانچ کیا، دوسری جانب بھارت کا 70 فیصد بجلی کا گرڈ سسٹم ناکارہ بنایا گیا ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کے تحت بھارتی آرٹلری گن پوزیشن دہرنگیاری سپلائی ڈپو اڑی کو تباہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ وہ تمام بیسز ہیں جہاں سے پاکستان میں عوام اور مساجد پر حملے کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ افواج پاکستان نے بھارتی سورت گڑھ ایئر فیلڈ کو بھی تباہ کردیا جبکہ پاکستان ایئر فورس کے جے ایف 17 تھنڈر کے ہائپر سونک میزائلوں نے آدم پور میں بھارت کا ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ کردیا جسے بھارت نے روس سے خریدا تھا اور اس کی مالیت لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان نے تباہ کردیا کو بھی گیا ہے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں