بھارت نے پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں چھوڑی تھی، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آج کی کارروائی بھی دفاع میں کی، بھارت نے پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں چھوڑی تھی۔
اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حملوں میں ہمارے 35 افراد شہید ہوئے، جبکہ بھارت کے 80 ڈرونز گرائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے مزموم عزائم جاری تھے، نور خان، شور کوٹ، سکھر ایئرپورٹ پر حملے ہوئے ہیں،پاکستان جوابی کارروائی اپنے دفاع میں کررہا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت جارحیت سے باز نہیں آرہا، آج ہم نے ’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘ آپریشن شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف امن کی بات اور دوسری طرف حملے، یہ بغل میں چھری، منہ میں رام رام والی بات ہے، ہم نے آپریشن شروع کردیا ہے، فتح ہماری ہوگی۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وہ بارڈر کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم دفاع کا حق رکھتے ہیں، بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے، اب تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھی کم سے کم ایکشن ہوا ہے، جنہوں نے پےلوڈ پاکستان پر پھینکا ان کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے جواب دیا ہے، دنیا دیکھ رہی ہے، بھارت نے بےپناہ جھوٹ بولا، کہا 15 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بھارت نے کہ بھارت کہا کہ
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔