لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی حملے کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے بھر پور جواب کے بعد بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا اور چند گھنٹوں میں سیز فائر  کا اعلان ہو گیا ۔ایک طرف جنگی محاذ پر تو سیز فائر ہو گیا لیکن سوشل میڈیا پر مودی کی اچھی خاصی ٹھکائی کا سلسلہ جاری ہے ۔

#ceasefire explained pic.twitter.

com/fL7jiX3Cqb

— JahanZaib (@JahanZaibb_) May 10, 2025

 

Pakistan is the best. Chup Thay iska Matlab ye nahi tha k gooongay hain????#ceasefire explained pic.twitter.com/hgRvThz8Jo

— سدرةالمنتھ'ی (@cid_r4y) May 10, 2025

 

رافیل طیارے گروانے اور پائلٹس کو چائے پلوانے کے بعد ہی مودی سرکار کو عقل آئی : حنا پرویز بٹ 

جب سے بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنے  کی دھمکیاں دے رہا تھا اور جب بھارت نے پاکستان پر حملے کیے تو پاکستان کی شیر دل عوام نے مودی اور اس کی سینا کی گیدڑ بھبھکیوں کو غیر سنجیدہ لیا یہی وجہ ہے کہ ایک طرف بھارت کے میڈ یا پر بھارتی عوام کو جنگی جنون میں مبتلا دیکھا گیا لیکن دوسری جانب پاکستانیوں کو تو جیسے شغل میلے کا موقع مل گیا ہو لوگ گراونڈ پر بھارتی ڈرونز کے ملبوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، خود ڈرونز پر اپنے اسلحے سے نشانہ بنا رہے تھے اور سوشل میڈیا پر میمز کا ایک طوفان تھا جو اب تک جاری ہے ۔

''ہم آزاد ملک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کیسے ہمیں ڈکٹیشن دے رہا ہے،، سیز فائر کے اعلان پر بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کی چیخیں نکل گئیں

Media channels right now after Trump announcement to stop war #ceasefire pic.twitter.com/V24TDaMn53

— Ex Bhakt (@exbhakt_) May 10, 2025

 

اس سیز فائر کے بعد فرانس بھی شکر ادا کر رہا ہو گا کہ مزید  انٹر نیشنل بے عزتی سے بچ گئے

Shukar, baaqi Rafale bach gaye! #ceasefire pic.twitter.com/UusbwRXGQV

— Khurram Qureshi (@qureshik74) May 10, 2025

 

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سیز فائر ہو گیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی