بنگلا دیش: عبوری حکومت نے عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی، شیخ حسینہ کے خلاف گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
ڈھاکا: بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شیخ حسینہ کی جماعت کی سرگرمیاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک معطل کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل ایکٹ میں بھی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سیاسی جماعتوں اور ان سے منسلک اداروں پر مقدمات چلائے جا سکیں گے۔
عوامی لیگ نے اس اقدام کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ شیخ حسینہ گزشتہ برس اگست میں عوامی دباؤ اور احتجاجی تحریک کے باعث مستعفی ہو کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ عبوری حکومت بھارت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر چکی ہے۔
بنگلادیش میں حالیہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دیے جانے کے خلاف طلبہ نے ملک گیر احتجاج شروع کیا۔ پرتشدد مظاہروں میں اب تک 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مظاہرین نے سول نافرمانی اور دارالحکومت ڈھاکا کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ بنگلا دیش کی طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والی وزیراعظم رہیں اور ان کی حکومت پر سیاسی مخالفین کے خلاف سخت اقدامات اور جماعت اسلامی پر پابندی جیسے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اب وہ خود بھی اسی طرح کے الزامات کی زد میں آ چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔