ناصر حسین شاہ کی زیرصدارت کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اجلاس میں کھیل کے میدانوں، پارکوں، اور تفریحی مقامات کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ ان کے انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اسکیموں اور تجاویز پر گفتگو کی گئی۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ کراچی ڈویژن میں مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر غور کے لیے پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس وزیر منصوبہ بندی و توانائی ناصر حسین شاہ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ناصر حسین شاہ نے کی جبکہ سینئر رہنماؤں خورشید شاہ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی، مکیش کمار چاولہ، سینیٹر وقار مہدی اور اعجاز جاکھرانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی سے منتخب پیپلز پارٹی کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی بھرپور شرکت کی۔ چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ نے اجلاس کے شرکاء کو ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں کراچی ڈویژن کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل اسکیموں، ان کی ترجیحات اور عمل درآمد پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ناصر حسین شاہ نے ہدایت دی کہ شہر میں جاری پرانی ترقیاتی اسکیموں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونین کونسل (یو سی) کی سطح پر صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی اسکیموں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ ناصر حسین شاہ نے سولر اسکیموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں، جبکہ پانی کے منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کھیل کے میدانوں، پارکوں، اور تفریحی مقامات کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ ان کے انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اسکیموں اور تجاویز پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ترقیاتی عمل میں عوام کی سہولت اور معیارِ زندگی کی بہتری کو مقدم رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ پیپلز پارٹی اجلاس میں کیا گیا کے لیے شاہ نے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔