بھارتی اپوزیشن کامودی سے آپریشن سندور پر پارلیمان میں جواب دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے والے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو پارلیمنٹ میں آ کر آپریشن سندور کا جواب دینے کا مطالبہ کر دیا۔
بھارتی اپوزیشن نے پہلگام واقعے اور آپریشن سندور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن کا متفقہ مطالبہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی پہلگام واقعے، آپریشن سندور، پاکستان کے جوابی حملے اور جنگ بندی کے حقائق پارلیمان کو بتائیں۔
اس سے قبل ایوان بالا راجیا سبھا کے اپوزیشن لیڈر ارجن کھر گے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا مطالبہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔