آسٹریلوی کرکٹرز بھارت جانے سے کترانے لگے، وارنر پاکستان واپسی کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پاکستان کے ہاتھوں جنگی میدان میں بدترین شکست کے بعد غیر ملکی کرکٹرز کرکٹرز بھی بھارت جانے سے کترانے لگے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں دوبارہ کھلاڑیوں کی شمولیت کے فیصلے کو پلئیرز پر ڈال کر راہ فرار اختیار کرنے کی تیاری کرلی۔
پاک بھارت کشیدگی کے بعد آئی پی ایل 17 مئی سے دوبارہ شروع ہوگا تاہم ٹورنامنٹ کے دوران پیش آئے واقعات نے کھلاڑیوں کو ڈرا دیا ہے، غیر ملکی پلئیرز کے اصرار اور سیکیورٹی کی پیش نظر بھارتی حکومت کو آئی پی ایل بند کرنا پڑگیا تھا۔
مزید پڑھیں: شکست خوردہ بھارتیوں نے آسٹریلوی کرکٹر کو بھی نہ بخشا
کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ پلئیرز کے فیصلے کا احترام کرے گا، اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو کوئی نہیں روکے گا تاہم ٹیم مینجمنٹ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ میں شریک کھلاڑیوں سے متعلق فیصلے کا حق رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: "پی ایس ایل کیلئے کبھی پاکستان نہیں آؤنگا" بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا
بورڈ نے مزید کہا کہ اپنے کرکٹرز کی حفاظتی انتظامات سے متعلق بھارتی بورڈ کیساتھ رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر نے پی ایس ایل کے دوبارہ شروع ہونے پر پاکستان آنے کا اعلان کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔