جاپان اپنی جارحیت کی تاریخ کو خوبصورت دکھانے سے باز رہے، چین
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں جاپانی چیف کیبنٹ سیکریٹری ہایاشی یوشی ماسا کے تاریخی امور پر حالیہ ریمارکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی عسکریت پسندوں نے جارحیت کی جنگ کا آغاز کرکے ناقابل بیان جرائم کئے ، جن سے چینی اور ایشیا کے متاثرہ ممالک کے عوام کو سنگین آفات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آج تک، جاپان میں جارحانہ جنگ اور نوآبادیاتی حکمرانی کو خوبصورت دکھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جاپانی فوج کے ہاتھوں جنسی غلام بننے والی ” کمفرٹ ویمن” جیسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبہم بیانات دئیے جارہے ہیں اور کچھ سیاست دانوں نے بار بار یاسوکونی شرائن پر حاضری بھی دی ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے کلاس اے جنگی مجرموں کو رکھا جاتا تھا .
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔