فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات ایک اعزازہے، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: پاکستانی آرمی چیف سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اعزاز ہے، ان کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ظہرانہ کیبنٹ روم میں دیا گیا۔
ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات اعزاز ہے، ان کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے کیوں کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ روکنے کے لیے شکریہ ادا کرنے کے لیے ظہرانے پر مدعو کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سے ملاقات کے دوران حالیہ ایران اور اسرائیل کے معاملے پر بھ یبات ہوئی جب کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت ہورہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر کہ فیلڈ مارشل سے ملاقات
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔