یہ سوال موجودہ  دور کی بات نہیں رہا کہ اگر اسرائیل ایران پر ایٹمی حملہ کرے تو کیا ہوگا؟ اس کے عوض، یہ ایک فوری تشویش بن گیا ہے جو پورے خطے میں سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جوہری تصادم ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کا ماحولیاتی، انسانی اور جغرافیائی سیاسی نتیجہ پاکستان اور بہت سے پڑوسی ممالک پر ان طریقوں سے اثر انداز ہو سکتا ہے جن کے لیے ہم مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔

 نیوکلیئر فال آؤٹ: ایک علاقائی نہ صرف ایک قومی آفت

 جوہری ہتھیار سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو جوہری ہتھیاروں سے نشانہ بناتا تو یہ دھماکہ نہ صرف ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتا بلکہ تابکار ذرات ہوا کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر تک پھیل سکتے ہیں۔

پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، عراق، اور یہاں تک کہ خلیج کے ممالک تابکار آلودگی کی مختلف ڈگریوں کا تجربہ کر سکتے ہیں، یہ دھماکے کے سائز اور قسم، موسم کے نمونوں اور خطوں پر منحصر ہے۔

قطر اس خطے کا پہلا ملک ہے جس نے پیر کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ اس کے متعلقہ حکام کی جانب سے ہوا اور پانی کے معیار کی جانچ پڑتال کے بعد پتہ چلا ہے کہ ہوا اور پانی پر کوئی نیوکلیئر اثر نہیں ہوا اور ہر چیز معمول پر ہے۔

کویت نے بھی  اپنے عوام کے لیے سرکاری سطح پر اعلان کر دیا، اطلاعات ہیں کہ دیگر خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات کی جانچ کر رہے ہیں۔

جنوب مغربی پاکستان، خاص طور پر بلوچستان، جنوبی پنجاب، اور خیبر پختونخواہ کے کچھ حصے میں اگر ہوا مشرق کی طرف چلتی ہے تو براہ راست بے نقاب ہو سکتی ہے۔

 کیا پاکستان تیار ہے؟ تابکاری کی نگرانی کے نظام کا کردار

 پاکستان کے پاس نیشنل نیوکلیئر ڈیٹیکشن سسٹم (NNDS) ہے، جو فضا میں تابکاری کی سطح کی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خطے میں جوہری حملے کی صورت میں، یہ نظام تابکار فال آؤٹ کو چالو اور ٹریک کرنے کے لیے سمجھا جاتا ہے۔

 لیکن کیا یہ نظام کافی ہے؟  کیا ہمارے ادارے تکنیکی طور پر تیار ہیں یا مناسب طریقے سے فنڈز فراہم کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر اس پیمانے کی جوہری ایمرجنسی کے لیے ہم آہنگ ہیں؟ اس سے پہلے کہ بحران پھوٹ پڑے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو فوری جوابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

 IAEA کی تصدیق اور ذمہ داری

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ ایران نے نطنز جوہری تنصیب پر اسرائیل کے روایتی حملوں کے بعد تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔

لیکن جوہری حملہ ایک بالکل مختلف منظر نامہ ہو گا، جس کے انسانی صحت، زراعت، پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی نظام کے لیے وسیع نتائج ہوں گے۔

 IAEA، WHO، اورUNE جیسی عالمی ایجنسیاں ممکنہ طور پر ایسی صورت حال میں تیزی سے جواب دیں گی، لیکن مقامی تیاری دفاع کی پہلی لائن ہے۔

پاکستان کو فوری طور پر کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟ تابکاری کی نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کریں۔ پاکستان کو اپنے جوہری سراغ رسانی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید، وسعت اور یقینی بنانا چاہیے کہ یہ 24 گھنٹے مکمل طور پر کام کر رہا ہے۔ ریڈیولاجیکل ایمرجنسی کے لیے ہسپتالوں کو تیار کریں۔ بڑے ہسپتالوں کو تابکاری سے متاثر لوگوں کے علاج کے لیے مخصوص ہنگامی یونٹس قائم کرنے چاہئیں، جن میں مناسب طبی سامان اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔ عوامی بیداری کی مہمات، شہریوں کو بنیادی تعلیم کی ضرورت ہے کہ جوہری فال آؤٹ کے دوران کیا کرنا چاہیئے، تابکار بارش یا آلودگی کی صورت میں پانی، خوراک اور پناہ گاہ کی حفاظت کیسے کی جائے۔ سفارتی دباؤ اور علاقائی مصروفیت،پاکستان کو اسرائیل یا کسی بھی ریاستی اداکار کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کی مذمت کرتے ہوئے تحمل اور پرامن حل پر زور دیتے ہوئے اس مسئلے کو اقوام متحدہ، او آئی سی اور آئی اے ای اے کے پلیٹ فارمز میں اٹھانا چاہیے۔  نتیجہ: تابکاری کوئی سرحد نہیں دیکھتی، کوئی قوم نہیں۔

ایٹمی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ اگر اسرائیل ایٹمی دہلیز کو عبور کرتا ہے تو وہ پورے خطے کو ماحولیاتی اور انسانی تباہی میں ڈال سکتا ہے۔  پاکستان نقشے پر میلوں دور ہو سکتا ہے لیکن ہوا، پانی اور تابکاری بغیر پاسپورٹ کے سفر کرتی ہے۔

 خاموش رہنا اب کوئی آپشن نہیں ہے۔ پاکستان کو بدترین صورت حال سے نمٹنے کے لیے قومی اور سفارتی سطح پر فوری طور پر تیار رہنا چاہیے۔

غیر فعال ہونے کی قیمت، تیاری کی لاگت سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں راقم نے  متعلقہ حکام سے واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے درخواست کی لیکن یہ آرٹیکل فائل کرنے تک وہ جواب نہ دے سکے۔

بلکہ ترجمان نے مجھے بتایا کہ جواب مناسب چینل کے ذریعے دیا جائے گا۔ جو ابھی تک نہیں آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس اہم معلومات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ تاہم اب وقت آگیا ہے کہ حکام عوام کو اعتماد میں لیں اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کریں۔

تحریر: عبید الرحمان عباسی

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل ایٹمی جنگ ایران پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایٹمی جنگ ایران پاکستان

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل