عرب میڈیا کو انٹرویو میں امریکی صدر سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہ وہ قابض اسرائیلی وزیراعظم کو جنگ غزہ کے خاتمے پر بھی مجبور کرے، سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننا چاہیئے! اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ کے خلاف جاری غاصب و سفاک صیہونی رژیم کی انسانیت سوز جنگ کے جلد از جلد خاتمے پر زور دیا ہے۔ عرب چینل الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا کہ غزہ میں اغوا کئے گئے اسرائیلی (قیدیوں) فوجیوں کو واپس لایا اور غزہ کی پٹی کے لئے حماس سے آزاد، ایک مشترکہ حکومت قائم کی جانی چاہیئے نیز اسرائیلی سیاستدانوں کو چاہیئے کہ وہ غزہ میں جنگ کو ختم کرنے کے لیے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں!

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے اعلان کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات ہوئے تو نیتن یاہو کی کابینہ گر جائے گی جیسا کہ سروے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس آئندہ انتخابات جیتنے کا اچھا موقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگ روکنے کے لئے دباؤ ڈالے گا جبکہ مَیں صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں کہ وہ نیتن یاہو کو کہہ دے کہ "اب بہت ہو چکا" کیونکہ اسرائیلیوں کی اکثریت غزہ میں جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ایہود اولمرٹ نے کہا کہ ہم نیتن یاہو کو ہٹانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہم ہر ممکن کوشش کریں گے تاہم غزہ اسرائیل کا حصہ نہیں اور میرا ماننا ہے کہ یہ جنگ غیر ضروری، بلا جواز، غیر قانونی اور کھلم کھلا جرم ہے! ایہود اولمرٹ نے صیہونی رژیم اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بارے کہا کہ وہ وجہ کہ جس کے باعث تل ابیب نے اس جنگ بندی کو قبول کیا ہے، یہ ہے کہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی شہروں میں بڑے پیمانے تباہی پھیلائی ہے تاہم ایرانی حکومت اسرائیل کے ساتھ پرامن بقائے باہمی چاہتی ہی نہیں۔ صہیونی سیاستدان نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایرانیوں نے اسرائیلی صلاحیتوں کا انتہائی غلط اندازہ لگایا ہے کیونکہ کوئی ملک یا حکومت اسرائیل کو تباہ نہیں کر سکتی! ایہود اولمرٹ نے دعوی کیا کہ ہم امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے پر تیار کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ایران پر حملے اسرائیل اور اس کی فوج کے لئے ایک اہم کامیابی تھی جس سے خطے سمیت دنیا بھر میں ایران کی پوزیشن بری طرح سے کمزور ہوئی ہے! اپنی گفتگو کے آخر میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے دعوی کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ایرانی عوام سے لڑنا نہیں چاہتے اور ہمارا مقصد ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سابق اسرائیلی وزیر نیتن یاہو کہا کہ ہم کہ ایران کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل