چین کی خودکار ڈرائیونگ (Autonomous Driving) ٹیکنالوجی تیزی سے اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ وہ  اب  نہ صرف چین کی سڑکوں پر نئی شان اور زیادہ تیز رفتاری سے دوڑ رہی ہے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کی سڑکوں پر بھی  پہلے کی نسبت زیادہ نظر آ رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، برق رفتاری، اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے سبب اب چینی کمپنیاں دنیا بھر کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔

سان ہوزے سے ریاض تک، چینی ٹیکنالوجی کا راج

چاہے وہ کیلیفورنیا کا سان ہوزے ہو یا سعودی عرب کا الُعلا، چینی خودکار گاڑیاں اب دنیا کے مختلف شہروں میں رواں دواں ہیں۔ وی رائیڈ  اور پونی  اے آئی جیسی معروف چینی کمپنیاں مشرق وسطیٰ سے یورپ تک، اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔

نمایاں کامیابیاں

WeRide کی گاڑیاں ریاض اور الُعلا میں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔

Pony.

ai نے دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

Baidu Apollo Go نے 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 1.4 ملین سواریوں کو خود کار سروس فراہم کی، جو گزشتہ برس کی نسبت 75 فیصد اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹیسلا نے ٹیکساس میں بغیر انسانی ڈرائیور والی ٹیکسی سروس لانچ کردی

عالمی توسیع اور تعاون

چینی AV کمپنیاں اب امریکا، فرانس، اسپین، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں فعال ہیں۔

Uber نے WeRide اور Pony.ai کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ان کی خودکار گاڑیوں کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کیا جا سکے۔

فائدے صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں

چینی AV کمپنیاں نہ صرف خودکار گاڑیاں فراہم کر رہی ہیں بلکہ مقامی معیشت کو مضبوط کر رہی ہیں، روزگار کے مواقع بڑھا رہی ہیں اور صنعتی ترقی میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔ مقامی فیکٹریاں، مینوفیکچرنگ کلسٹرز، R&D سینٹرز بن رہے ہیں۔ وی رائیڈ کے مطابق: فلیٹ مینجمنٹ، ٹیکنیکل سپورٹ اور سیفٹی آپریشنز میں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی بہتر کارکردگی کے لیے عالمی میدان

وی رائیڈ، پونی اے آئی اور Baidu جیسے ادارے مختلف جغرافیائی، ماحولیاتی اور قانونی حالات کے مطابق اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر کر رہے ہیں۔

  چیلنجز اور مشکلات

 خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو ریگولیٹری پیچیدگیاں درپیش ہیں، تکنیکی مطابقت کے مسائل بھی ہیں جبکہ ڈیٹا پرائیویسی کے قوانین بھی ایک چیلنج ہیں۔ علاوہ ازیں ٹیسلا، ویمو اور کروز کے ساتھ مسابقت کا معاملہ بھی ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر کمرشلائزیشن اور پائیدار بزنس ماڈلز کی تشکیل سب سے بڑا چیلنج ہے۔

مستقبل کے لیے روڈ میپ کیا ہے؟

Pony.ai اور WeRide مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور یورپ میں توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Baidu Apollo Go ابو ظہبی میں سب سے بڑا ڈرائیورلیس فلیٹ بنانے کی تیاری میں ہے۔

 اس کے علاوہ نئے انرجی پارٹنرز کے ساتھ تعاون، بیٹری سویپنگ جیسی سروسز پر بھی کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے چینی کمپنی کے ہاتھوں پریشان ہوکر ٹیسلا نے کار سسٹم اپ گریڈ کردیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی خود کار ڈرائیونگ کمپنیوں کی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی موجودگی اور کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ چینی خودکار ڈرائیونگ کمپنیاں ‘میڈ ان چائنا’ انوویشن کا نیا نشان بننے جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹیکنالوجی چینی خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی خود کار گاڑیاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی چینی خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی خود کار گاڑیاں کار ڈرائیونگ کی سڑکوں پر چینی خود رہی ہیں خود کار کے ساتھ

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان