کراچی کا ماسٹر پلان سندھ حکومت کی ترجیح نہیں: آباد چیئرمین
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کا ماسٹر پلان بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی، جس کے باعث شہر میں غیرقانونی اور مخدوش عمارتوں کی بھرمار شہریوں کی جان و مال کے لیے مسلسل خطرے کا باعث بن رہی ہے۔
آباد ہاؤس میں سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز اور ایس بی سی اے پر آباد سب کمیٹی کے کنوینر صفیان آڈھیا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن بخشی نے کہا کہ کراچی میں 700 مخدوش اور لاکھوں غیرقانونی و ناقص میٹریل سے تعمیر شدہ عمارتیں موجود ہیں، جو کسی بھی وقت زمین بوس ہوکر انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران غیرقانونی عمارتوں کے گرنے سے 150 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جس کی بنیادی وجہ کرپشن، لالچ اور حکومتی اداروں کی سنگین غفلت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آباد ان 700 خطرناک عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر حکومت اجازت دے تو ہم یہ کام 700 دن کے اندر مکمل کر سکتے ہیں، اگر خدانخواستہ کراچی میں زلزلہ آیا تو ان میں سے ہزاروں عمارتیں زمین بوس ہو سکتی ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں عمارت گرنے کے المناک واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم حکومتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس میں نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ شفاف تحقیقات ممکن ہو سکیں۔
محمد حسن بخشی نے کہا کہ لیاری سانحہ کے متاثرین کے لیے حکومت امدادی پیکج کا اعلان کرے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو 10 لاکھ روپے کی فوری مالی امداد دی جائے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب کی طرز پر مریم نواز جیسی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کریں تاکہ سندھ میں گھروں کی بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف اتھارٹیز بشمول ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے نے رہائشی اسکیموں کے نام پر 25 ارب روپے سے زائد وصول کیے، لیکن عوام کو آج تک ایک بھی مکمل اسکیم فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت آباد کو ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف دے تو ہم مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر چینی کمپنیوں کی معاونت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس موقع پر آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا کہ لیاری بغدادی سانحہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جائے وقوعہ کے دورے کے دوران انتظامی غفلت واضح نظر آئی، نہ مشینری دستیاب تھی اور نہ ہی لائٹس کا انتظام کیا گیا، جبکہ انتظامیہ کا کوئی نمائندہ بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گرنے والی عمارت کے مکینوں کو خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے تو پھر عملدرآمد کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
آباد سب کمیٹی کے کنوینر صفیان آڈھیا نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے حکومت کو کئی تجاویز دی گئیں مگر افسوس کہ ان پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیرقانونی تعمیرات میں ملوث بلڈرز اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کیے جائیں اور فوری طور پر نیسپاک یا این ڈی ایم اے جیسے معتبر اداروں کی مدد سے مخدوش عمارتوں کا سروے کرایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ