گلگت: دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، متعدد ملبے تلے دب گئے، 8 رضاکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
گلگت کے علاقے دنیور نالہ میں اتوار پیر کی درمیانی شب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق یہ رضاکار حالیہ سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کا کام کر رہے تھے کہ اچانک پہاڑ سے مٹی اور پتھروں کا بھاری تودہ گر پڑا۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے حادثے کے بعد علاقے کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ریسکیو اہلکار بھاری مشینری کے ساتھ متاثرہ مقام پر کام کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دینور گلگت بلتستان لینڈ سلائیڈنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان لینڈ سلائیڈنگ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔