UrduPoint:
2026-07-24@06:01:39 GMT

دس لاکھ شامی مہاجرین اپنے وطن واپس ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

دس لاکھ شامی مہاجرین اپنے وطن واپس ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 ستمبر 2025ء) تارکین وطن سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ گزشتہ دسمبر میں شام کے حکمران بشار الاسد کے خاتمے کے بعد سے دس لاکھ شامی پناہ گزین اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کے لیے فنڈز میں کافی کمی آتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے ایک بیان میں کہا، "محض نو مہینوں میں، آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد 10 لاکھ شامی باشندے اپنے ملک واپس پہنچ گئے ہیں۔"

ایجنسی نے مزید کہا کہ تقریباً 14 سال کی خانہ جنگی کے دوران شام کے اندر بے گھر ہونے والے 18 لاکھ افراد بھی اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔

(جاری ہے)

سن 2011 میں بہار عرب کے مظاہروں کے ایک حصے کے طور پر شام میں بھی حکومت مخالف پرامن مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس کے خلاف اسد حکومت نے سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور پھر اس طویل تنازعے کی وجہ سے 13 ملین پر مشتمل شام کی آبادی کا نصف حصہ بے گھر ہو گیا۔

واپس آنے والوں کے لیے چیلنجز کیا ہیں؟

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے بڑے پیمانے پر اس واپسی کو "ملک میں سیاسی منتقلی کے بعد شامی باشندوں کی امیدوں اور بڑی توقعات کی علامت" کے طور پر بیان کیا ہے تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں میں سے بہت سے اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔

ایجنسی نے کہا، "تباہ شدہ مکانات اور بنیادی ڈھانچہ، کمزور اور تہس نہس پڑی بنیادی سروسز، روزگار کے مواقع کی کمی اور غیر مستحکم سکیورٹی لوگوں کی واپسی اور ان کی بحالی کے عزم کو چیلنج کر رہی ہیں۔"

یو این ایچ سی آر کے مطابق سات ملین سے زیادہ شامی ملک کے اندر ہی بے گھر ہیں اور 4.

5 ملین سے زیادہ اب بھی بیرون ملک پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ادارے نے استحکام کی کوششوں میں زیادہ سرمایہ کاری اور کمزور خاندانوں کے لیے امداد میں اضافے پر زور دیا۔ انسانی ہمدردی کے تحت مدد کی اپیل

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے کہا، "بین الاقوامی برادری، نجی شعبے اور بیرون ملک موجود شامی باشندوں کو ایک ساتھ مل کر بحالی میں مدد کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تنازعات سے بے گھر ہونے والوں کی رضاکارانہ واپسی پائیدار اور باوقار ہو اور انہیں دوبارہ بھاگنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

"

یو این ایچ سی آر کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ اردن، لبنان، مصر اور عراق میں 80 فیصد شامی مہاجرین ایک نہ ایک دن اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں، جبکہ 18 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اگلے سال کے اندر ہی ایسا کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

گرانڈی نے کہا، "انہوں نے گزشتہ 14 سالوں میں بہت زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو اب بھی تحفظ اور مدد کی ضرورت ہے۔

اردن، لبنان اور ترکی جیسے میزبانی کرنے والے ممالک کی جانب سے پائیدار حمایت اتنی ہی اہم ہے تاکہ واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار ہو۔"

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کے لیے فنڈز کم ہو رہے ہیں اور شام کے اندر، مطلوبہ فنڈز کا صرف 24 فیصد ہی دستیاب ہے، جبکہ شام کے وسیع تر علاقائی ردعمل کے لیے، صرف 30 فیصد فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ "شامی عوام کی حمایت کم کرنے اور شام اور اس خطے کی بہتری کے لیے دباؤ ڈالنے کا یہ وقت نہیں ہے۔"

ادارت: جاوید اختر

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یو این ایچ سی آر ایجنسی نے کے اندر بے گھر شام کے کے لیے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت