جی ایچ کیو حملہ کیس؛ عدالت نے دو وکلاء کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دو وکلاء کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے فیصلہ سنایا۔ دو وکلاء فیصل ملک اور حسنین سنبل کی ملاقات کی درخواست منظور کی گئی۔
عدالت نے حکم دیا کہ دونوں وکلاء کی آج جمعرات اڈیالہ جیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے، جی ایچ کیو حملہ کیس میں وکلاء کی کلائنٹ سے مشاورت آئینی و قانونی تقاضا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ ملاقات کروا کے کل جمعہ عمل درآمد رپورٹ پیش کریں۔
دونوں وکلاء کو عدالتی آرڈر فراہم کر دیا، آج ہی ملاقات کرنے کی اجازت مل گئی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔