عمران خان کی وڈیو لنک ٹرائل کیخلاف پٹیشن لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کی رجسٹری میں گم ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر 2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کی وڈیو لنک ٹرائل کے خلاف پٹیشن لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کی رجسٹری میں گم ہوگئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتایا ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ عمران خان کی جانب سے وڈیو لنک ٹرائل کے خلاف پٹیشن لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کی رجسٹری میں گم ہوگئی ہے، میری معاونت کرنے والے عرفان نیازی ایڈووکیٹ کو رجسٹرار کے عملے نے بتایا ہے کہ فائل مل نہیں رہی لہذا مقدمہ سنوائی کیلئے نہیں لگ سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کی وڈیو لنک پر ٹرائل کے ڈھونگ کے خلاف پٹیشن 23 ستمبر کو راولپنڈی بینچ میں دائر ہوئی، ریجسٹرار کی خاموشی کی بناء پر آج ہائیکورٹ کے سینئر جج سے چیمبر میں لطیف کھوسہ اور میں ملے تو بتایا گیا کہ پٹیشن 29 ستمبر سے پہلے لگنے کا امکان نہیں ہے جب کہ 28 ستمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تاریخ ہے۔(جاری ہے)
گزشتہ سماعت پر پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جی ایچ کیو حملہ کیس میں فوٹیج فراہمی و ٹرائل روکنے کی درخواستیں خارج کردی گئی تھیں، اس سلسلے میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی تھی جہاں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور سلمان اکرم راجہ عدالت پیش ہوئے، سپیشل پراسیکیوٹرز ظہیر شاہ اور اکرام امین منہاس بھی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے، دوران سماعت وکلاء صفائی نے درخواست کی کہ 19 ستمبر کے عدالتی کارروائی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی فراہم کی جائے، دوسری درخواست کی کہ جیل ٹرائل منتقل کرنے سے متعلق ہائی کورٹ کے آرڈرز تک عدالتی کارروائی روکی جائے۔ اس حوالے سے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اپنایا کہ کہ ’عمران خان سے مشاورت تک عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے‘، اس پر عدالت نے کہا کہ ’گزشتہ سماعت پر آپ کی بانی سے بات کرائی انہوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، آپ واٹس ایپ کمیونیکیشن کو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں‘، عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ ’ہم نے واٹس ایپ کمیونیکیشن کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے، واٹس ایپ کال وڈیو لنک تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، ہمیں وقت دیا جائے ہم اس عدالت کے گزشتہ آرڈر کو چیلنج کریں‘، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ’آپ بے شک جاکر چیلنج کریں لیکن عدالتی کارروائی نہیں روکی جاسکتی‘۔ پراسیکیوٹر اکرام امین منہاس نے کہا کہ ’گزشتہ سماعت پر وکلاء صفائی نے عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا، آج کی سماعت میں عدالت وکلاء صفائی کے کسی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں، وکلاء صفائی ایک دن عدالت چھوڑ کر جاتے ہیں دوسرے دن کہتے ہیں ہمیں وقت دیا جائے، استغاثہ کے گواہ ریکارڈ ہونے ہیں ٹرائل نہیں روکا جاسکتا، وکلاء صفائی کا کنڈکٹ بتارہا ہے یہ ٹرائل کیلئے سنجیدہ نہیں، وکلاء صفائی صرف اور صرف عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں‘، اسی طرح پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ’ٹرائل روکنے سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں، عدالت گزشتہ سماعت پر وکلاء صفائی کی درخواست پر آرڈر کرچکی ہے، عدالتی آرڈر پر سوالات اٹھانا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے‘۔ اس پر وکیل فیصل ملک نے کہا کہ ’ہم فیئر ٹرائل کا مطالبہ کررہے ہیں، ملزم اگر اپنے وکیل کو نہیں سن سکتا یا وکیل اپنے موکل کو نہیں سن سکتا تو یہ فیئر ٹرائل کیسے ہے؟‘، اس پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ’عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کرکے دوبارہ درخواست دینا یوٹرن ہے، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق کوئی فوٹیج، ٹرانسکرپٹ کسی کو فراہم نہیں کیا جاسکتا، وکلاء صفائی کو باہر جاکر میڈیا پر مظلوم بننے کا بہانہ چاہیئے، اسی عدالت سے چند روز قبل علیمہ خان کی ضمانت منظور ہوئی‘، اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’عدالت حکومتی ہدایات پر نہیں آئین کے مطابق چلتی ہیں، یہ نہیں ہوسکتا عدالت کال کوٹھری میں بند شخص کو واٹس ایپ کال پر پیش کریں‘۔ عدالت نے وکیل سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’آپ کا پورا حق ہے آپ اس عدالت کے آرڈر کو چیلنج کریں، جب تک ہائیکورٹ کوئی حکم جاری نہیں کرتی عدالتی کاروائی نہیں روکی جاسکتی‘، اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’ٹرائل کو تیز رفتاری سے چلانا ضروری نہیں، ہمیں عمران خان سے مشاورت کی اجازت دی جائے‘، عدالت نے جواب دیا کہ ’پچھلی بار آپ کے وکلاء کی بانی سے بات کرائی وہ تقریر کرنا شروع ہوگئے‘، سلمان اکرم راجہ نے معاملہ اٹھایا کہ’ ہمیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جارہا، وکیل اپنے مؤکل کی ہدایات پر چلتا ہے‘۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ نے عدالتی کارروائی گزشتہ سماعت پر عمران خان کی وکلاء صفائی چیلنج کریں نے کہا کہ وڈیو لنک واٹس ایپ عدالت نے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔