عملدرآمد کرانیوالی عدالت ڈگری کوکالعدم نہیں کر سکتی ،جسٹس شکیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250925-01-22
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ متعلقہ دائرہ اختیاررکھنے والی عدالت اگر جائیداد کے حوالہ سے جاری ڈگری کوکالعدم قرارنہ دے تو فیصلہ پر عملدرآمد کرانے والی عدالت اس ڈگری کوکالعدم قرارنہیں دے سکتی، ہم بھی وکیلوں سے سیکھتے ہیں جبکہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم اس بات
کی اجازت نہیں دے سکتے کہ دوبارہ جھگڑا شروع ہوجائے اور دوبارہ کیس ہمارے سامنے آنے میں10سال لگ جائیں۔ ڈگری پرعملدرآمد کرانے والی عدالت اپنے دائرہ اختیارسے باہر نہیں جاسکتی۔ سپریم کورٹ کے 1001فیصلے ہیں کہ بعد میں خریداری کرنے والا کیس میں لازمی فریق نہیں۔ہم بھی روزانہ سیکھتے ہیں۔ جسٹس شکیل احمد کی سربراہی میںجسٹس عامرفاروق پر مشتمل 2رکنی بینچ نے بدھ کے روز کیسز کی سماعت کی۔ بینچ نے محمد سلیم کی جانب سے شیخ آفتاب احمد مرحوم کے لواحقین اوردیگر کے خلاف زیر التواکیس کی سماعت کے دوران جائیداد کی خریداری کے معاملہ پردائر درخواست پرسماعت کی۔کیس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کوچیلنج کیا گیاتھا۔ درخواست گذار کی جانب سے محمد رمضان چوہدری بطور وکیل پیش ہوئے۔ جبکہ مدعاعلیہان کی جانب سے قمرپرویز ضیاء بطور وکیل پیش ہوئے۔ جسٹس شکیل احمدنے کہا کہ متعلقہ دائرہ اختیاررکھنے والی عدالت اگر جائیداد کی حوالہ سے جاری ڈگری کوکالعدم قرارنہ دے تو فیصلہ پر عملدرآمد کروانے والی عدالت اس ڈگری کوکالعدم قرارنہیں دے سکتی۔ جسٹس عامر فاروق کاکہنا تھا کہ ڈگری پرعملدرآمد کروانے والی عدالت اپنے دائرہ اختیارسے باہر نہیں جاسکتی۔
جسٹس شکیل احمد
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس شکیل احمد والی عدالت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔