چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
جنگ عظیم دوئم کے بعد چونڈہ کی جنگ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی مانی جاتی ہے۔
تقریباً 600 سے زائد بھارتی ٹینک اور 2 ہزار سے زائد پیدل سپاہ نے چونڈہ پر قبضے کے ناکام ارادے سے حملہ کیا لیکن پاکستانی آرٹلری نے ہیبت ناک بمباری سے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر ڈالا۔
پاکستانی ٹینک یونٹ کے بے باک ایڈوانس، آرٹلری کی تباہ کن بمباری اور پاکستانی انفنٹری کی ثابت قدمی کے آگے تین بھارتی ڈویژن بے بس ہوگئے۔
بھارتی فوج سیکڑوں لاشیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ نکلی، تقریباً 800 کے قریب بھارتی فوجی جہنم واصل جبکہ ایک ہزار سے زائد قیدی بنا لیے گئے۔
بھارتی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن 180 ٹینکوں کو تباہ کروا کر بھی پاکستانی سپاہیوں کے آہنی عزم کو توڑ نہ سکا، عبرتناک شکست کے بعد بھارتی آرمرڈ ڈویژن بارڈر کی طرف پسپا ہو کر لوٹ گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔