پاکستان نے بھارت کے 7 بالکل نئے خوبصورت طیارے مار گرائے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو:۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ تجارت کے ذریعے رکوا دی، مختصر فوجی کشیدگی کے دوران سات بالکل نئے اور خوبصورت طیارے مار گرائے گئے تھے۔
عالمی میڈیا کے مطابق جاپان کے دورے کے دوران کاروباری رہنماﺅں کے ساتھ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے پھر دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کیے گئے ٹیرف کی وجہ سے انہوں نے بہت سی جنگیں روک کر دنیا کی بڑی خدمت کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آپ بھارت اور پاکستان کو دیکھیں، وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے تھے، ان کی مختصر جھڑپ میں 7 بالکل نئے اور خوبصورت جہاز مار گرائے گئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ میں نے بھارتی وزیراعظم مودی، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی کہا کہ دیکھو، اگر تم لوگ لڑائی کرو گے تو ہم کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میری انتظامیہ نے واضح کیا اگر تم لڑو گے تو ہم کوئی ڈیل نہیں کریں گے جس کے بعد 24گھنٹوں کے اندر اندر معاملہ ختم ہو گیا، اور یہ واقعی حیران کن تھا، وہ دو بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں۔ جنگ ہوتی تو ہم سارے متاثر ہوسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ تجارت اس بات کی 70 فیصد وجہ ہے کہ ہمارے درمیان جنگیں نہیں ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔