پاکستان اور چین کے عوام کو جلد ایک دوسرے کے ملک بذریہ سڑک آسان سفر میسر ہوگا: صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
صدر پاکستان آصف زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام جلد ایک دوسرے کے ممالک میں سڑک کے ذریعے آسانی سے سفر کر سکیں گے۔ چین کے دورے پر موجود صدر آصف علی زرداری کی اُرمچی میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری سنکیانگ چن شیاوجیانگ سے ملاقات ہوئی جس دوران گورنر سنکیانگ ارکن تونیاز بھی موجود تھے۔ اس موقع پر چن شیاوجیانگ نے کہا کہ سنکیانگ خوشحالی اور پائیدار امن کا مرکز بن چکا ہے، سنکیانگ انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے اور سماجی ترقی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ چین کے عوام کی یکجہتی اور سنکیانگ کی ترقی متاثر کن ہے، پاکستان دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے چین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین زراعت، صنعت، معدنیات اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، دونوں ممالک کے عوام جلد ایک دوسرے کے ممالک میں سڑک کے ذریعے آسانی سے سفر کرسکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔