جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس، سندھ ہائیکورٹ کا درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کیس سے متعلق وفاقی حکومت کے وکیل کی فوری سماعت کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ حکومت کے وکیل کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کے کیس میں حکم امتناع کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اس وجہ سے درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 21 نومبر 2024 کو آئینی بینچ نمبر ون کے جج جسٹس عدنان الکریم نے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی تھی اور کہہ چکے ہیں کہ فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ کے کیسز ان کے روبرو پیش نہ کیے جائیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ 17 دسمبر 2024 کے انتظامی آرڈر کے بعد درخواست آئینی بینچ نمبر 2 کو منتقل کی گئی، 15 ستمبر 2025 کو فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ کی جانب سے بتایا گیا وہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نہیں رہے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ فاروق نائیک نے نشان دہی کی کہ پاکستان بار کونسل کے نئے چیئرمین طاہر نصر اللہ وڑائچ ہیں لہٰذا وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو نوٹس ارسال کیا جائے کہ وہ اس کیس میں مزید فریق ہیں یا نہیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت کا 17 دسمبر 2024 کا انتظامی آرڈر واپس لیا جاتا ہے اور اس حوالے سے دائر درخواستین آئینی بینچ نمبر ون میں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں کیوںکہ کیس میں ایک سال حکم امتناع چل رہا ہے۔
عدالت نے تمام درخواست گزاروں اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کردیے اور کیس کی سماعت 25ستمبر کو جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو ہوگی۔
وکیل نے مؤقف اپنایا تھا کہ حکم امتناع موجود ہے جس سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان بار کونسل سندھ ہائی ہائی کورٹ کورٹ نے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔