data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میٹا نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فیس بک اور میسنجر پر موجود کروڑوں کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو خودکار طور پر ٹین (Teen) اکاؤنٹس میں منتقل کیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق یہ اقدام بچوں کو آن لائن زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کے تحت 13 سے 15 سال کی عمر کے تمام صارفین کے اکاؤنٹس پرائیویٹ ہو جائیں گے۔ اس تبدیلی کے بعد والدین بھی یہ نگرانی کر سکیں گے کہ ان کے بچے میٹا کی ایپس کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں، جبکہ کم عمر صارفین تک مختلف اقسام کے حساس یا غیر موزوں مواد کی رسائی بھی محدود ہو جائے گی۔

میٹا نے سب سے پہلے ستمبر 2024 میں انسٹاگرام پر ٹین اکاؤنٹس کا آغاز کیا تھا جس کے بعد امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں فیس بک اور میسنجر پر بھی یہ سہولت متعارف کرائی گئی۔ اب کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ پالیسی دنیا بھر میں نافذ کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) استعمال کی جائے گی تاکہ ایسے کم عمر صارفین کی درست نشاندہی کی جا سکے اور ان کے اکاؤنٹس کو خودکار طریقے سے اسٹیپ میں منتقل کیا جا سکے۔

یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب میٹا کو مختلف ممالک میں اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے ناکافی اقدامات کر رہا ہے۔ ماضی میں بھی کمپنی نے انسٹاگرام اور فیس بک پر کئی سخت پالیسیز نافذ کی ہیں، جیسے 19 سال سے زائد افراد کو کم عمر صارفین کو بغیر فالو کے پیغام بھیجنے سے روک دینا، 18 سال سے کم عمر بچوں کو رات گئے ایپس کے استعمال سے باز رکھنے کے لیے خصوصی ٹولز، اور خودکشی، نقصان پہنچانے یا ایٹنگ ڈس آرڈرز جیسے خطرناک مواد تک ان کی رسائی محدود کرنا۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جنوری 2024 میں ایک اور میسجنگ پابندی نافذ کی گئی جس کے تحت بائی ڈیفالٹ سیٹنگز میں اجنبی افراد کو کم عمر صارفین کو میسج کرنے یا انہیں گروپ چیٹس میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تازہ ترین اقدام کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ میٹا اپنی پالیسیوں میں بچوں اور نوجوان صارفین کے تحفظ کو مزید سخت بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔

ویب ڈیسک شیخ یاسین.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کم عمر صارفین صارفین کے فیس بک کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان