کیا امریتا راؤ شاہ رُخ خان کی وجہ سے کم فلموں میں نظر آئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
مشہور بھارتی اداکارہ امریتا راؤ نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ فلم ’میں ہوں نا‘ کے دوران شاہ رخ خان کی دی گئی ایک نصیحت نے ان کے کیریئر پر گہرا اثر ڈالا، جس کے باعث وہ فلموں کے انتخاب میں ہمیشہ بہت محتاط رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک یوٹیوبر سے گفتگو کرتے ہوئے امریتا راؤ نے بتایا کہ 2004 کی فلم ’میں ہوں نا‘ کی شوٹنگ کے دوران شاہ رخ خان نے انہیں اور ان کی والدہ کو الگ سے بلایا اور ان کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔
شاہ رخ نے امریتا کو مشورہ دیا کہ ’انہیں 200 فلمیں آفر ہوں گی، لیکن انہیں اس میں سے صرف دو کرنی ہیں، اور ان میں سے ایک وہ ہونی چاہیے جس کا لوگ انتظار کر رہے ہوں۔‘ امریتا نے کہا کہ وہ آج بھی اسی اصول پر عمل کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شاہ رخ خان سیٹ پر نئے اداکاروں کو اعتماد دینے کے لیے ان سے گھل مل جاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ پہلا ٹیک ہی بہترین ہو تاکہ دوبارہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
یاد رہے کہ شاہ رخ خان ان دنوں اپنی آنے والی فلم ’کنگ‘ پر کام کر رہے ہیں، جس میں ان کی بیٹی سہانا خان بھی شامل ہیں جبکہ دیپیکا پڈوکون ان کیساتھ مرکزی کردار میں نظر آئیں گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔