نیتن یاہو اقوام متحدہ سے خطاب کریں گے، مسلم ممالک نے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیو یارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آج اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خطاب کریں گے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں آج اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو خطاب کریں گے، تاہم مسلم اور عرب ممالک نے اس تقریر کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے دوران مسلم ممالک کے مندوبین اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کر جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین کے اہم رکن ملک سلووینیا نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطین میں جنگی جرائم کے الزامات کے پیش نظر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
آج کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چین کے وزیر اعظم لی چیانگ اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی خطاب کریں گے۔ بین الاقوامی سیاسی حلقوں کی نظر آج کے اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں عالمی قیادت کی آراء اور مؤقف دنیا بھر کے لیے اہم پیغام رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے گزشتہ دنوں اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کا تذکرہ کیا تھا، جسے عرب اور مسلم رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اس منصوبے پر تنقید کی وجہ سے متعدد ممالک نے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر اعظم کے اجلاس میں خطاب کریں گے اقوام متحدہ نیتن یاہو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔