بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار میں ایک بار پھر مسلمانوں کے قتل کا بازار گرم
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار میں ایک بار پھر مسلمانوں کی قتل و غارت کا بازار گرم ہوگیا۔
بھارت میں ہندو مسلم فسادات نریندر مودی کی سفاکیت کا ایک اور سیاہ باب بن چکے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کی سفاک سیاست اور ہندوتو ایجنڈے نے بھارت کو فاشزم کی تجربہ گاہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
انتہا پسند مودی کی ایما پر چلنے والی نام نہاد جمہوریت میں ایک بار پھر ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور حالیہ مذہبی تنازعات پرکانپور سے پھیلنے والی آگ نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
مسلمانوں کے خون کی پیاسی مودی حکومت نے 4 ستمبر کو کانپور میں "گجرات ٹو" دہرانے کی کوشش کی ہے۔
بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق تنازع کے بعد گجرات سمیت کئی ریاستوں میں پرتشدد جھڑپوں میں کئی معصوم مسلمان زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ پولیس نے بھی روایتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتر پردیش کے متعدد اضلاع میں مسلمان مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
بھارت میں اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی اب صرف ہندوتوا نظریے کی تابع بن چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔