صدر ٹرمپ امن کے ضامن، پاک امریکا تعلقات نئی سمت میں داخل ہوں گے، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
واشنگٹن: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ امن کے ضامن ہیں، ان کی لیڈرشپ میں دونوں ملکوں کے تعلقات نئی سمت میں داخل ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کر دی ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں خطے اور دنیا کے اہم امور زیرِ بحث آئے۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار قرار دیا اور کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیراعظم نے بالخصوص پاک بھارت کشیدگی میں سیزفائر کرانے کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت مداخلت اور فیصلہ کن قیادت نہ ہوتی تو خطہ ایک بڑے المیے کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی امن قائم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے، خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے ان کی کاوشیں اور مسلم دنیا کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت قابلِ تعریف ہیں۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات پر بھی تفصیل سے بات ہوئی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو اس سال طے پانے والے ٹیرف معاہدے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات نئی بلندیوں پر جائیں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔
انسداد دہشتگردی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے کردار کی تعریف پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک امریکا تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط اور کثیرالجہتی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: دونوں ملکوں کے شہباز شریف
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔