سعودی عرب کا بڑا اعلان: ریاض میں کرایے 5 برس تک نہیں بڑھیں گے WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز

ریاض(آئی پی ایس)سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے کرایے آئندہ پانچ سال کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مملکت میں جائیداد کی قیمتیں اور کرایے تیزی سے بڑھ رہے تھے اور عام شہریوں کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

سعودی وزارت ہاؤسنگ کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ریاض کو مزید قابل رہائش شہر بنانا اور شہریوں پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔

حکومت چاہتی ہے کہ کرایوں کی حد مقرر کر کے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود مناسب رہائش حاصل کر سکیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کے تحت تمام نئے اور موجودہ کرایہ داری معاہدے 5 سال تک ایک ہی کرایے پر برقرار رہیں گے، اور مالکان کو اس دوران کرایہ بڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے “وژن 2030” کے تحت ریاض کو عالمی سطح پر ایک جدید کاروباری اور رہائشی مرکز بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور کرایہ کنٹرول اس منصوبے کی ایک اہم کڑی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ کردی غزہ جنگ بندی کیلئے ٹرمپ کے 21 نکاتی منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں چینی نمائندے کی انسانی حقوق کی کونسل میں عالمی انسانی حقوق کے انتظام میں بہتری کی اپیل چین، 70 سالوں میں تاریخی تبدیلی، سنکیانگ جدیدیت کے راستہ پر گامزن ثابت کریں کہ بین الاقوامی قانون محض ایک فسانہ نہیں ہے؛ یمنی صدر کا اقوام متحدہ سے مطالبہ کولمبین صدر کی اقوام متحدہ میں ٹرمپ پر کڑی تنقید، امریکی وفد اجلاس چھوڑ کر چلاگیا اسلامی معیشت کے ماہر اور تاریخ کے پہلے ڈگری یافتہ امام کعبہ: سعودی عرب کے نئے مفتی اعظم کون ہیں؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم