Express News:
2026-07-24@04:42:53 GMT

سعودی عرب کا بڑا اعلان: ریاض میں کرایے 5 برس تک نہیں بڑھیں گے

اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT

ریاض: سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے کرایے آئندہ پانچ سال کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مملکت میں جائیداد کی قیمتیں اور کرایے تیزی سے بڑھ رہے تھے اور عام شہریوں کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

سعودی وزارت ہاؤسنگ کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ریاض کو مزید قابل رہائش شہر بنانا اور شہریوں پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔ 

حکومت چاہتی ہے کہ کرایوں کی حد مقرر کر کے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود مناسب رہائش حاصل کر سکیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کے تحت تمام نئے اور موجودہ کرایہ داری معاہدے 5 سال تک ایک ہی کرایے پر برقرار رہیں گے، اور مالکان کو اس دوران کرایہ بڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے "وژن 2030" کے تحت ریاض کو عالمی سطح پر ایک جدید کاروباری اور رہائشی مرکز بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور کرایہ کنٹرول اس منصوبے کی ایک اہم کڑی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل