سعودی عرب کا بڑا اعلان: ریاض میں کرایے 5 برس تک نہیں بڑھیں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ریاض: سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے کرایے آئندہ پانچ سال کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مملکت میں جائیداد کی قیمتیں اور کرایے تیزی سے بڑھ رہے تھے اور عام شہریوں کے لیے رہائش حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
سعودی وزارت ہاؤسنگ کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ریاض کو مزید قابل رہائش شہر بنانا اور شہریوں پر مالی دباؤ کم کرنا ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ کرایوں کی حد مقرر کر کے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دیا جائے، تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود مناسب رہائش حاصل کر سکیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کے تحت تمام نئے اور موجودہ کرایہ داری معاہدے 5 سال تک ایک ہی کرایے پر برقرار رہیں گے، اور مالکان کو اس دوران کرایہ بڑھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے "وژن 2030" کے تحت ریاض کو عالمی سطح پر ایک جدید کاروباری اور رہائشی مرکز بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور کرایہ کنٹرول اس منصوبے کی ایک اہم کڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔