بلوچستان اسمبلی میں گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی نے گوادر کی عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔
جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر)عبد الخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ گوادر ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی شہر ہے اور گوادر پورٹ کو سی پیک کا ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہر کے باسی بنیادی سہولت، خصوصا پانی جیسی اہم ضرورت سے محروم ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں تقریبا 18 ارب روپے پانی کے منصوبوں پر خرچ ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں سفارش کی گئی کہ گوادر کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے تاکہ درینہ مسئلہ حل ہوسکے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اخراجات کے بجائے مستقل نوعیت کے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی نے کہا کہ گوادر میں روزانہ 30 لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے، ڈیم بنائے گئے ہیں اور امید ہے کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پائپ لائن خستہ حال ہے، تاہم میرانی ڈیم سے پانی لاکر عوام کو فراہم کیا جائے گا۔
بعد ازاں ایوان نے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی مورخہ 29 ستمبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔