data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی نے گوادر کی عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔

جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن (ر)عبد الخالق اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ گوادر ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی شہر ہے اور گوادر پورٹ کو سی پیک کا ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہر کے باسی بنیادی سہولت، خصوصا پانی جیسی اہم ضرورت سے محروم ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں تقریبا 18 ارب روپے پانی کے منصوبوں پر خرچ ہوئے، لیکن کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا گیا۔ قرارداد میں سفارش کی گئی کہ گوادر کے عوام کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے تاکہ درینہ مسئلہ حل ہوسکے۔

مولانا ہدایت الرحمن نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عارضی اخراجات کے بجائے مستقل نوعیت کے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ظہور بلیدی نے کہا کہ گوادر میں روزانہ 30 لاکھ گیلن پانی کی ضرورت ہے، ڈیم بنائے گئے ہیں اور امید ہے کہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پائپ لائن خستہ حال ہے، تاہم میرانی ڈیم سے پانی لاکر عوام کو فراہم کیا جائے گا۔

بعد ازاں ایوان نے گوادر کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی مورخہ 29 ستمبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردی۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کرنے کی قرارداد

پڑھیں:

پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی