سعودی عرب کا تاریخی سنگِ میل: مصنوعی ذہانت سے لیس پہلا لیپ ٹاپ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
سعودی عرب نے قومی جدت اور ڈیجیٹل معیشت کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلا سعودی ساختہ لیپ ٹاپ HORIZON Pro متعارف کرایا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ اعلان کمپنی HUMAIN نے کیا، جو پبلک انویسمنٹ فنڈ کی ملکیت ہے۔ اس منصوبے کو مملکت کی ٹیکنالوجی میں خودکفالت اور عالمی قیادت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا پہلا مقامی اے آئی چیٹ بوٹ لانچ کردیا گیا
یہ لیپ ٹاپ محققین، ماہرین، تخلیقی شعبوں کے افراد اور کاروباری پیشہ وران کے لیے ایک ہمہ جہت حل ہے، جو کارکردگی، سکیورٹی اور لچک کو یکجا کرتا ہے۔
یہ جدید ڈیوائس طاقتور Qualcomm Snapdragon X Elite پروسیسر کے ساتھ آتا ہے، جسے نئی نسل کی اسمارٹ کمپیوٹنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے، اس میں 32 گیگا بائٹ میموری اور ایک ٹیرا بائٹ SSD اسٹوریج فراہم کی گئی ہے تاکہ بھاری اور پیچیدہ ایپلی کیشنز بھی باآسانی چل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اے آئی ڈاکٹر کلینک کھولنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا
مزید برآں، 14 انچ OLED ڈسپلے اور 2.
HORIZON Pro مصنوعی ذہانت کے دو موڈز فراہم کرتا ہے۔ آف لائن اے آئی موڈ میں تمام پروسیسنگ براہِ راست ڈیوائس پر انجام پاتی ہے، جس سے مکمل ڈیٹا پرائیویسی یقینی بنتی ہے، جبکہ ہائبرڈ اے آئی موڈ مقامی پروسیسنگ اور کلاؤڈ کو یکجا کر کے زیادہ طاقتور نتائج فراہم کرتا ہے، جو بڑے ڈیٹا تجزیے، تھری ڈی ماڈلنگ اور پیچیدہ کاروباری اطلاقات کے لیے مثالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ایونٹ ’لیپ 2025‘
اس کامیابی کے ساتھ سعودی عرب نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کیا ہے، جو مملکت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل معیشت اور عالمی جدت کے میدان میں سرکردہ کردار ادا کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
HORIZON Pro we news اے آئی سعودی عرب لیپ ٹاپ مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی لیپ ٹاپ مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت لیپ ٹاپ کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ