خیبرپختونخوا حکومت نے محکموں کو ترقیاتی فنڈز جاری کردیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
خیبرپختونخوا حکومت نے محکموں کو 23 ارب 77 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق فنڈز مالی سال26-2025 کی دوسری سہ ماہی کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق سب سے زیادہ فنڈز تعلیم، صحت اور روڈ سیکٹرز کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے لیے 2 ارب 47 کروڑ 63 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 3 ارب 1 کروڑ 46 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 64 کروڑ 85 لاکھ 94 ہزار روپے جاری ہوئے ہیں۔
محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق زراعت کے لیے 80 کروڑ 86 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ اوقاف کے لیے 20 کروڑ 33 لاکھ، بورڈ آف ریونیو کو ساڑھے 15کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
پینے کے صاف پانی و صفائی کے لیے 72 کروڑ 63 لاکھ روپے، محکمہ توانائی و بجلی کے لیے 46 کروڑ 83 لاکھ روپے، محکمہ خزانہ کے لیے 58 کروڑ 34 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے لیے 9 کروڑ 14 لاکھ روپے جبکہ محکمہ ماحولیات کے لیے 14 کروڑ 61 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق فلیگ شپ اسکیموں سے فنڈز کی منتقلی پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ترقیاتی فنڈز صرف منظور شدہ منصوبوں پر خرچ کیےجائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔