ایف بی آر کی اسمگلنگ کے خلاف مہم تیز، کروڑوں مالیت کی غیرقانونی اشیا ضبط
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
کراچی:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ماتحت ادارے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ گڈانی نے ساحلی پٹی اور آر سی ڈی ہائی وے پر اسمگلنگ کے خلاف اپنی مہم تیز کر تے ہوئےگزشتہ ایک ہفتے کے دوران اورماڑہ، کھرکھیرا اور حب میں اسپیشل اسمگلنگ پریوینشن اسکواڈ کی فیلڈ فارمیشنز کی مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں منشیات، ممنوعہ اشیا، اسمگل شدہ زرعی پیداوار اور غیر قانونی ایرانی تیل و ڈیزل پکڑ لیا۔
ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے دوران کی گئی کارروائیوں میں کسٹمز گڈانی نے چیک پوسٹ کھرکھیرا، وندر پر ایک کنٹینر سے 188 کلو گرام چرس برآمد کر کے ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خرخیرہ چیک پوسٹ پر ایک اور مسافر بس پکڑی گئی جس میں 7 کروڑ روپے مالیت کا متفرق اسمگل شدہ سامان تھا، اسی طرح اسپیشل اسمگلنگ پریوینشن اسکواڈ کی طرف سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا جس میں تقریباً 76 ٹن اسمگل شدہ انار لے جانے والے چار ریفریجریٹڈ کنٹینرز (ریفرز) ضبط کیے گئے۔
مزید بتایا گیا کہ پکڑے گئے اناروں کی نیلامی سے تقریباً دو کروڑ 50 لاکھ روپے کا ریونیو قومی خزانے میں جمع کرایا گیا، اورماڑہ میں 14 ہزار لیٹر اسمگل شدہ ایرانی تیل لے جانے والی مسافر بسوں کو روکا گیا اور حب کے علاقے باوانی میں ایک گودام پر چھاپہ مار کر 10 ہزار 650 لیٹر اسمگل شدہ ایرانی ڈیزل قبضے میں لے لیا گیا۔
اسی طرح دو کروڑ 40 لاکھ کی ایک اور ضبط کی گئی جس میں فلیڈ انفورسمنٹ یونٹ (ایف سی یو) خضدار نے اسمگل شدہ پوست کے بیج لے جانے والا ایک ہینو ٹرک پکڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسمگل شدہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔