سعودی عرب میں ریلوے سفر میں 41 فیصد اضافہ، محکمہ شماریات
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سعودی محکمہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 42 ملین سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ ریلوے خدمات کے تیزی سے فروغ اور عوامی اعتماد میں نمایاں اضافے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد نے مکہ مکرمہ میں ترقیاتی منصوبے ’شاہ سلمان دروازہ‘ کا آغاز کردیا
ماہرین کے مطابق ریلوے نیٹ ورک کے پھیلاؤ اور جدید بنیادی ڈھانچے کی بدولت سعودی عرب میں ریل نظام اب ایک محفوظ، مؤثر اور ماحول دوست سفری ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
حکومت کی قومی نقل و حمل اور لاجسٹکس حکمتِ عملی کے تحت ملک کے مختلف علاقوں کو ایک مربوط نظام میں جوڑا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: سعودی فٹ بال ٹیم کی بڑی کامیابی، فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرلیا
اس منصوبے کا مقصد سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق پائیدار ترقی، زندگی کے معیار میں بہتری، اور جدید سفری ذرائع کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریلوے کے شعبے میں یہ تیز رفتار ترقی خطے کے لیے ایک نیا ماڈل بن سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب سعودی محکمہ شماریات سعودی وژن 2030.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی محکمہ شماریات سعودی وژن 2030 کے مطابق
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔